News4

اسمبلی میں آج حکومت سے محکمہ آبپاشی پر وائٹ پیپر کی اجرائی

چیف منسٹر کا کل ارکان اسمبلی کیساتھ میدی گوڑہ بیاریج دورہ، چیف منسٹر کا وزراء کے ساتھ اہم اجلاس

حیدرآباد۔11فروری(سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر اے ریونت ریڈی نے آج جیوتی راؤ پھولے پرجا بھون میں کانگریس ارکان اسمبلی اور وزراء کے ہمراہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ریاستی اسمبلی میں محکمہ آبپاشی کے وائٹ پیپر کی اجرائی کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا اور ارکان اسمبلی کو محکمہ آبپاشی میں کی جانے والی دھاندلیوں کے متعلق واقف کروایا۔بتایاجاتا ہے کہ ریونت ریڈی نے پاؤر پوائنٹ پرزینٹیشن کے ذریعہ دریائے کرشنا و گوداوری کے پانی کی تقسیم کے علاوہ ان پر تعمیر کئے گئے پراجکٹس کے متعلق واقف کروایا۔ اس اجلاس میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے علاوہ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر فینانس مسٹر ملو بھٹی وکرمارک‘ وزیر آبپاشی کیپٹن اتم کمار ریڈی ‘ مسٹر ٹی ناگیشور راؤ ‘ مسٹر ڈی سریدھر بابو کے علاوہ دیگر وزراء اور تمام کانگریس ارکان اسمبلی و قانون ساز کونسل موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق ریونت ریڈی نے کانگریس مقننہ پارٹی کے اجلاس کے دوران 12 فروری کو ایوان اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں محکمہ آبپاشی پر وائیٹ پیپر کی پیشکشی کے علاوہ 13 فروری کو تمام ارکان اسمبلی کے ساتھ میدی گڈہ بیاریج کے دورہ کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ 12 فروری کو تلنگانہ قانون سازاسمبلی میں مصروف اور اہم دن رہنے کا امکان ہے کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے علی الحساب بجٹ پر 12فروری کو مباحث ہونے ہیں اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے اسمبلی میں محکمہ آبپاشی پر وائیٹ پیپر جاری کئے جانے کا امکان ہے ۔کانگریس مقننہ پارٹی اجلاس کے دوران چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں سے مختلف امور کے متعلق استفسار کئے اور اجلاس میں موجود ارکان اسمبلی و قانون ساز کونسل کو ان امور کے متعلق واقف کروایا۔ حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتہ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابقہ حکومت نے گوداوری اور کرشنا کے پانی کی تقسیم کے معاملہ کو مرکز کے حوالہ کیا تھا اور مرکز کی جانب سے کی گئی تقسیم پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی تھی۔ اجلاس کے دوران وزراء اور ارکان اسمبلی وقانون ساز کونسل کے درمیان دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور چیف منسٹر نے 12 فروری کے اسمبلی اجلاس کے سلسلہ میں وزراء اور ارکان اسمبلی کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں حقائق کو منظر عام پر لانے میں کوتاہی نہ کرنے کا مشورہ دیا۔3

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *