امریکی ایوان نمائندگان نے اسرائیل کے لیے امدادی بل کی سیاسی چال ناکام بنا دی

واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے اسرائیل کے لیے امدادی بل کی سیاسی چال ناکام بنا دی، یہ بل ریپبلکنز نے پیش کیا تھا، تاہم ارکان نے اسے مسترد کر دیا۔

روئٹرز کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کو ریپبلکن کی زیر قیادت پیش ہونے والے ایک بل کو مسترد کر دیا، جس میں اسرائیل کو 17.6 بلین ڈالر فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی۔

ڈیموکریٹس کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کے لیے اس مخصوص بل کی بجائے ایک وسیع پیمانے پر بل چاہتے ہیں، جس میں یوکرین کے لیے امداد، بین الاقوامی انسانی امداد اور سرحدی سلامتی کے لیے نئی رقم فراہم کرنے کی بات کی گئی ہو۔

اسرائیل کی امداد کے لیے اس بل کی مخالفت میں 250 ووٹ پڑے جب کہ حق میں 180 ووٹ آئے، چوں کہ بل کو ہنگامی طور پر پیش کیا گیا تھا اس لیے اس کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت درکار تھی، ووٹ زیادہ تر پارٹی کی سطح پر دیے گئے، تاہم 14 ریپبلکنز نے خود اس بل کی مخالفت کی جب کہ اس کے برعکس 46 ڈیموکریٹس نے اس کی حمایت کی۔

امریکی غیر ملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ اسرائیل ہے، جس کے لیے کانگریس میں دونوں طرف سے حمایت ملتی رہتی ہے، تاہم اس بار پیش کردہ بل کو اکثر مخالفین نے ایک سیاسی چال قرار دیا تاکہ 118 بلین ڈالر کے سینیٹ کے بل کی ریپبلکنز کی مخالفت سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ ایک سو اٹھارہ بلین ڈالر کا یہ بل ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جس میں یوکرین، اسرائیل اور شراکت داروں کے لیے اربوں ڈالر کی ہنگامی امداد کے ساتھ ساتھ امریکی امیگریشن پالیسی، انڈو پیسفک ریجن اور بارڈر سیکیورٹی کے لیے بھی نئی فنڈنگ شامل ہے۔ کچھ ڈیموکریٹس نے فلسطینی شہریوں کے لیے امداد فراہم کرنے میں ناکامی پر بھی 17.6 بلین ڈالرز کے بل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *