اورنگی ٹاؤن: وہ علاقہ جہاں اس بار تاریخ بدل سکتی ہے اور شاید عوام کی قسمت بھی!

ملک میں انتخابات کا دنگل 8 فروری 2024 کو سجنے والا ہے۔ اورنگی ٹاؤن ان حلقوں میں سے ایک ہے جہاں نیشنل اسمبلی کی دو نشستیں این اے 245 اور این اے 246 موجود ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے یہاں تین نشستیں پی ایس 119، پی ایس 120 اور پی ایس 121 مختص کی گئی ہیں۔

الیکشن کی مناسبت سے اورنگی میں بھی سیاسی پارٹیوں کی تیاریاں اپنے عروج پر ہیں۔ یہ قصبہ کبھی ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی کے طور پر شمار ہوتا تھا مگر اب اس کا رنگ ڈھنگ ہی بدل چکا ہے۔ اورنگی ٹاؤن میں پکی عمارتوں کا ایک جنگل آباد ہوچکا ہے اور اسے کراچی کے اندر ایک چھوٹا سا شہر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہاں کی آبادی ایک اندازے کے مطابق 28 لاکھ نفوس سے زائد پر مشتمل ہے۔

یہاں کے لوگوں کو لبھانے کے لیے بھی سیاسی پارٹیوں نے صرف عوام کے سامنے اپنے جلسوں میں بڑے بڑے دعوے کیے ہیں بلکہ منتخب ہونے پر انھیں پورا کرنے کے وعدے بھی کیے ہیں۔ اس علاقے سے اکثر و بیشتر متحدہ قومی موومنٹ جیتتی آئی ہے بس پچھلی بار یہاں سے ایک سیٹ تحریک انصاف کے حصے میں آئی تھی۔

آئندہ الیکشن میں اس علاقے کے لوگ اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے کافی پرجوش نظر آتے ہیں وہ کس پارٹی کو ووٹ دیں گے یہ تو ان کی خواہش اور وابستگی پر منحصر ہے تاہم اس بار کیا اونگی ٹاؤن کی تاریخ بدل سکتی ہے اور عوام کی قسمت بھی؟ یہ بڑا سوال ہے۔

اس علاقے اور یہاں کے حلقوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے اے آر وائی ویب نے تین بڑی سیاسی پارٹیوں کے انتخابی امیدواوں سے انٹرویو کیا جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی

نیشنل اسمبلی 245 کے لیے پیپلزپارٹی کے امیدوار صدیق اکبر کا کہنا تھا کہ الیکشن میں سارے امیدوار ہی مقابلے کے لیے اترتے ہیں، امید ہے اس بار الیکشن صاف ستھرے ہونگے اس بار حریفوں کو ان چیزوں کا موقع نہیں ملے گا جو وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں، یقین کی حد تک امید ہے کہ ہم فتحیاب ہونگے۔

انھوں نے کہا کہ مجھے حلقے کے مسائل کا ادارا ہے کیوں کہ میں یہاں کا رہائشی ہوں اور یہاں کے لوگ جن مسائل سے روز گزرتے ہیں میں بھی انہی سے نبردآزما ہوتا ہوں۔ یہاں بلدیاتی نوعیت کے مسائل زیادہ ہیں۔ قومی اسمبلی میں چاہیں گے کہ ایسی قانون سازی کا حصہ بنیں جس سے عوام کے مسائل حل ہوسکیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم بلدیاتی نمائندوں کو اختیار دینے کے مخالف نہیں ہیں، جس ایکٹ کے تحت آپ انتخابات لڑتے ہیں اس ایکٹ کے تحت آپ کو اختیار حاصل رہتا ہے اور وہ آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ پیپلزپارٹی سب سے زیادہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ نمائندہ کو اختیارات دیے جائیں۔

انھوں نے موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں کہا کہ میرے حلقے میں محنت کش طبقہ زیادہ رہتا ہے، یہاں روزگار کے مسائل زیادہ ہیں اور لوگوں کو بہترین روزگار اس وقت مل سکتا ہے جب ملک میں سرمایہ کاری آئے اور معیشت پھلے پھولے۔ کاروبار ہوتا ہے تو لوگوں کو نوکریاں ملتی ہیں اور روزگارف بھی ملتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گیس کے حوالے سے 2013 میں پیپلزپارٹی کی قیادت نے دوراندیشی دکھائی تھی اور پاکستان اور ایران گیس پائپ لائن کا معاہدہ کیا تھا۔ ہماری قیادت کو اداراک تھا کہ یہ صورتحال درپیش آئے گی۔ ملک میں گیس کے ذخائر ختم ہورہے ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ بیرون ملک معاہدے کرکے ملک میں گیس لائے جائے۔

انھوں نے کہا کہ میئر کراچی ہمارے ہیں، بارش کے بعد علی گڑھ مارکیٹ پانی میں ڈوب گئی تھی جسے رات میں صاف کرنے کے اقدامات کیے گئے، میئر کراچی کام کررہے ہیں اور ٹاؤن چیئرمین بھی کام کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت الیکشن ہونے والے ہیں اور ضابطہ اخلاق کا بھی معاملہ ہے،ہم کراچی میں بارش کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں نہ لوگ نہ حکومتیں اس کی وجہ سے ہمارا نقصان ہوجاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی تو نوجوانوں کے لیے سوچتی ہے، بلاول بھٹو نے نوجوانوں کے لیے یوتھ کارڈ کے اِجرا کا کہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں نوجوان کو برائی سے بچانے کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کی طرف لے کر آئیں۔ بدقسمتی یہ رہی کہ ماضی میں شہر میں چائنا کٹنگ کی گئی اور مختص پلاٹوں پر قبضہ کیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان

حلقے سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے قومی اسمبلی 245 کے لیے نامزد امیدواس سید حفیظ الدین نے کہا کہ الیکشن پالیٹکس ایسی ہے جس میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی اور مجھے میرے حلقے کے تمام امیدوار ہی سخت جان حریف لگے ہیں ان کے مقابلے میں میں خود کو کمزور سمجھتا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے موقع دیا اور میں منتخب ہوا تو سب سے پہلے بنگلہ دیش میں پھنسے محصورین پاکستان کے لیے کام کروں گا۔ جس مسئلے کی طرف توجہ دوں گا وہ یہ محصورین پاکستان کا مسئلہ حل ہوں یہاں موجود لوگوں کی مشکلات بھی کم کی جاسکیں۔

انھوں نے کہا کہ آئین پاکستان کہتا ہے کہ جو چیز سب سے پہلے جہاں پیدا ہوتی ہے وہ سب سے پہلے اس صوبے کے لوگوں کو مہیا کی جائے۔ 70 فیصد گیس سندھ فراہم کرتا ہے اور گیس ترجیحی بنیادوں پر سندھ کے لوگوں کو ملنی چاہیے۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی حکومت نے اس مسئلے پر کوئی کام نہیں کیا لیکن ہم کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم تین آئینی ترامیم کی طرف توجہ مرکوز کریں گے۔ این ایف سی فنڈ مناسب طور پر ڈسٹرکٹس میں تقسیم کیا جائے، انھیں خودمختار بنایا جائے۔ ہم بلدیاتی نمائندوں کو خودمختار بنائیں گے۔

بجلی، پانی گیس لوگوں کا بنیادی حق ہے، انھیں اس سے کسی طور بھی محروم نہیں کیا جاسکتا ہے، ہم چاہتے ہیں لوگوں کے نمائندوں کے ذریعے یہ چیزیں ان کی دہلیز تک پہنچیں اس کے لیے ہم آئینی جدوجہد کریں گے۔ ہم گلی کوچوں کے کونسلرز کو خودمختار بنائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پچھلے 15 سال میں پیپلزپارٹی کی نالائق حکومت نے کراچی کو جنگل بنادیا ہے۔ اس بارش کے بعد یہ شہر کافی تباہ حال ہوگیا ہے۔ یہاں بے یار و مددگار لوگ پڑے ہوئے ہیں کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں، لاہور اور اسلام آباد میں بارش کے بعد یہ حال نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے اچھی چیز بوئی ہے اور اچھی چیز کاٹیں گے۔ ایم کیو ایم اور پی ایس پی کا اتحاد پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد سیاسی اتحاد ہے۔ ایک پارٹی ذرا سی ہلی تھی وہ دوبارہ سے آپس میں مل گئی، کسی اور پارٹی میں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ آئندہ الیکشن میں اس اتحاد کے نتائج سامنے آئیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف

اورنگی سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اور صوبائی اسمبلی پی ایس 119 کے امیدوار سعید آفریدی کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ عوام میں اپنے حقوق کا شعور بیدار کیا جائے۔ اپنے حلقہ کی عوام کو اسمبلی میں پہچانا ہے انکی تکالیف ایوانوں میں درج کروانی ہے۔ منتخب ہونے پر اسمبلی ممبر کے طور پر میرا کام اپنی حلقے کی عوام کے بنیادی حقوق کا حصول ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ میی الحمدللہ مجھے امید ہے کہ میں عام انتخابات میں اپنے مخالفین کو شکست دوں گا۔ ان کے پیچھے طاغوتی قوتیں کھڑی ہیں جبکہ ہم اپنے بل بوتے پر لڑ رہے ہیں۔ ان کا خوف ہی ان کی شکست کی نشانی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس علاقے کی نمائندگی کے لیے مجھے میرے قائد نے چنا ہے، الحمدللہ میں اس حلقہ میں ہی رہائش پزیر ہوں اور یہاں کے تمام مسائل کا مجھے بخوبی اندازہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ گیس کا مسئلہ بنایا جا رہا ہے یہ کوئی اتنا اہم مسئلہ نہیں۔ پی ٹی آئی نے گیس کے مسئلے سے جان چھڑانے کے لیے ایران کے ساتھ سستی گیس پائپ لاین کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ الیکشن کے بعد ہماری نسلیں انشا اللہ حقیقی آزادی بھی دیکھیں گی۔ ہمیں ہمیں خود مختار ریاست کی طرف بڑھنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ معاشی بہتری کے لیے ہمیں ملکی ذخائر پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے۔ الحمدللہ عوام کو شعور آگیا کہ ہمارے مسائل اتنے بڑے نہیں جتنا بڑا اس ملک کے مسائل کو دکھایا جارہا ہے۔

انھوں نے کراچی میں اسپورٹس میدانوں کی کمی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپورٹس کے میدان اور اسپورٹس کمپلیکس بنانا شہری حکومت کا کام ہے۔ اس طرف ان کی توجہ دلوانا ہمارا کام ہے جو انشا اللہ ہم کرتے رہیں گے۔

قارئین یہ تو تھی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کی گفتگو جس میں انھوں نے ہمیشہ کی طرح بڑے دعوے کیے ہیں اور حلقے میں مناسب کام نہ ہونے کا ملبہ دووسری پارٹیوں پر ڈالا ہے۔ اس علاقے میں اکثر و بیشتر مسائل ایسے ہیں جن پر ماضی میں بہت کم توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

تاہم اس بار عوام اگر چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں تو انھوں اپنے ووٹ کی طاقت کی اہمیت کا اندازہ کرنا ہوگا۔ 8 فروری کو اپنے گھروں سے نکلنا ہوگا اور سیاسی پارٹی کے دعوؤں سے قطع نظر اس امیدوار کو چننا ہوگا جو اپنے وعدوں کے مطابق ان کے مسائل حل کرسکے۔ اگر لوگوں نے ووٹ ڈالتے وقت دانشمندی دکھائی تو امید ہے کہ ان کے لیے اگلے پانچ سال کچھ زیادہ مشکل نہیں ہونگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *