News4

تلنگانہ تلی کا مجسمہ مجھ جیسا دیکھتا ہے تو چیف منسٹر کو اعتراض کیوں

کیا میں تلنگانہ کی دختر نہیں ہوں ، کانگریس حکومت سے کویتا کا استفسار
حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے کہا کہ مجسمہ تلگو تلی ان کی طرح نظر آتا ہے تو چیف منسٹر کے سی آر کو اعتراض کیا ہے ۔ انہوں نے مہیندر ریڈی کو تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی صدارت سے فوری بیدخل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس سلسلہ میں گورنر سے ملاقات کرنے کا اعلان کیا ۔ حیدرآباد میں اپنی قیام گاہ پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کہتے ہیں تلگو تلی مجسمہ ان کے ( کویتا ) کے جیسا دیکھتا ہے ۔ اس میں برائی کیا ہے کیا وہ تلنگانہ کی دختر نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سنگارینی میں ڈپینڈنٹ ملازمتوں کو کانگریس کے دور حکومت میں ہی برخاست کیا گیا تھا ۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں 20 ہزار ڈپینڈنٹ ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں ۔ جنرل منیجر سطح کے کام چیف منسٹر کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت سنگارینی میں نئے 400 ملازمتیں دینے کی جھوٹی تشہیر کررہی ہے ۔ کے سی آر کے دور حکومت میں فراہم کی گئی ملازمتوں کو کانگریس حکومت اپنے کارنامہ کے طور پر پیش کررہی ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو کے دور حکومت میں سنگارینی ملازمین کی تعداد گھٹا دی گئی تھی ۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد کانگریس پارٹی جھوٹ بول رہی ہے ۔ ریاستی ترانہ کے بارے میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کاردعمل مضحکہ خیز ہے ۔ جب کہ چیف منسٹر نے ایک مرتبہ بھی جئے تلنگانہ نہیں کہا ہے ۔ کویتا نے صدر نشین تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن مہیندر ریڈی کو فوری عہدے سے ہٹا دینے کا مطالبہ کیا ۔ اس مسئلہ پر گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن سے ملاقات کرنے کا اعلان کیا ۔ ٹی ایس پی ایس سی میں آندھرائی باشندے کو رکن بنانے کا الزام عائد کیا ۔ سیاسی قائد پالوائیے رجنی کو رکن بنانے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں برقی کٹوتی شروع ہوجانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں روزانہ 2 تا 4 گھنٹے برقی کٹوتی کی جارہی ہے ۔ تلنگانہ اسمبلی کو اے پی کا مشیر کیوں نامزد کیا گیا ہے ۔ اس کی وضاحت کرنے کا حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ برائے نوٹ کیس میں ریونت ریڈی کی عدالت میں پیروی کرنے والے وکیل کو حکومت کی طرف سے تنخواہ دی جارہی ہے ۔۔ 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *