News4

حقہ پارلرس پر پابندی ، اسمبلی میں اتفاق رائے سے بل منظور

طلبہ اور نوجوان نسل حقہ کے عادی، منشیات اور سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کا منصوبہ
حیدرآباد 12 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں نوجوان نسل کو ڈرگس اور دیگر نشہ آور سرگرمیوں سے دور رکھنے حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرکے تمام حقہ پارلرس پرپابندی عائد کردی ہے۔ اس سلسلہ میں آج وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے اسمبلی میں بل پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا ۔ بل کی منظوری کے ساتھ ہی ریاست بھر میں حقہ پارلرس کی سرگرمیاں ختم ہوجائیں گی اور خلاف ورزی کرنے والوں پر سخت کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ایوان میں سابق ارکان اسمبلی کو خراج عقیدت کی پیشکشی کے بعد وزیر سریدھر بابو نے چیف منسٹر کی جانب سے سگریٹ اور دیگر ٹوباکو پراڈکٹس (تشہیر پر امتناع، پیداوار اور سربراہی کو باقاعدہ بنانے) سے متعلق ترمیمی بل 2024 پیش کیا ۔ سریدھر بابو نے بل کے اغراض و مقاصد بیان کئے اور کہا کہ حکومت نوجوان نسل کو منشیات اورنشیلی اشیاء سے بچانے حقہ پارلرس پر فوری امتناع کا فیصلہ کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اور خاص طور پر کالج جانے والے طلبہ حقہ کے عادی بن چکے ہیں اور حقہ آرگنائزرس صورتحال کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تمباکو نوشی اور منشیات سے روکنا ضروری ہے اور حقہ کا استعمال سگریٹ نوشی سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک گھنٹہ حقہ میں 200 پف لئے جاتے ہیں جو سگریٹ نوشی سے 100 گنا زیادہ خطرناک ہے ۔ سریدھر بابو نے کہا کہ حقہ میں کئی مہلک اشیاء استعمال کی جاتی ہے جن میں گاربن مونو آکسائیڈ اور ہیوی میٹل ہوتا ہے جو کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقہ کا استعمال نہ صرف حقہ لینے والے بلکہ اس کے دھوئیں کے زیر اثر آنے والے افراد کیلئے بھی نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ حقہ پارلرس اور حقہ بارس عوامی مقامات پر صحت عامہ کیلئے خطرہ بن چکے ہیں۔ بی آر ایس و دیگر پارٹیوں کے ارکان نے بل پر مزید بحث کے بغیر تائید کا اعلان کیا۔ مسئلہ کی سنگینی کو محسوس کرنے پر اسپیکر نے اپوزیشن سے اظہار تشکر کیا جس کے بعد ایوان میں ندائی ووٹ سے بل کو منظوری دے دی۔ سریدھر بابو نے بتایا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی مساعی پر حقہ پارلرس پر پابندی کا کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا۔ 1

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *