دہلی چلو مارچ پھر2دن کیلئے ملتوی‘آئندہ کی حکمت عملی کا آج اعلان

آنسو گیس سے متاثر کسان رہنما جگجیت سنگھ ڈلیوال ایمرجنسی وارڈ میں داخل‘ کسان بات چیت کیلئے پھر مدعو

نئی دہلی : احتجاجی کسان پنجاب اور ہریانہ کی سرحدوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ مشتعل کسانوں نے 21 فروری کو اپنی’دہلی چلو ‘ مارچ کو دوبارہ شروع کیا لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس دوران کھنوری سرحد پر جھڑپ میں ایک نوجوان کی موت ہو گئی اور تقریباً 12 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ ان حالات کے پیش نظر کسان رہنماؤں نے دہلی چلو مارچ کو دو دن کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔میڈیاکے مطابق کسان رہنما سرون سنگھ پنڈھر نے کہا کہ ہم کھنوری میں پیش آنے والے واقعے پر بات کریں گے۔ ہم ساری صورتحال کا جائزہ لیں گے اوربعد میں اپنے اگلے قدم کو واضح کریں گے۔ ایسی صورت حال میں ہم جمعہ کی شام یعنی23 فروری کو آگے کی حکمت عملی کا اعلان کریںگے۔ حکومت اور کسانوں کے درمیان تعطل کو ختم کرنے کی کوشش میں تین مرکزی وزراء کے ساتھ چوتھے دور کی بات چیت کے ناکام ہونے کے بعد کسانوں نے کل دہلی میں داخل ہونے کا منصوبہ بنایا۔ جھڑپ میں ہلاک نوجوان کی شناخت شوبھکرن سنگھ (21) کے طور پر ہوئی ہے، جو پنجاب کے ضلع بھٹنڈہ کے گاؤں بالوکے کا رہنے والا ہے۔ پٹیالہ کے راجندر ہاسپٹل کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایچ ایس ریکھی نے بتایا کہ کھنوری سے تین لوگوں کو ہاسپٹل لایا گیا تھا، جن میں سے ایک کی موت ہوگئی تھی جبکہ دیگر دو افراد کی حالت مستحکم ہے۔میڈیاکے مطابق ہریانہ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تقریباً 12 پولیس اہلکار اس وقت زخمی ہوئے جب ان پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کیا گیا۔مرکزی وزیر زراعت ارجن منڈا نے چہارشنبہ کو کسانوں کو اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کے پانچویں دور کے لیے مدعو کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم مذاکرات کے ذریعے ہی حل تلاش کر سکتے ہیں۔ پٹیالہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق کسان تحریک کے دوسرے مرحلے کے دوران اہم رہنما کے طور پر ابھرنے والے بھارتیہ کسان یونین لیڈر جگجیت سنگھ ڈلیوال کی طبیعت چہارشنبہ کی شام اچانک بگڑ گئی۔ آنسو گیاس سے متاثر ہونے پر انہیں پٹیالہ کے راجندرا ہاسپٹل کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرایا گیا ہے۔ کسانوں کا دعویٰ ہے کہ شمبھو بارڈر پر سیکورٹی اہلکاروں کی طرف سے فائر کیے گئے آنسو گیس کے گولوں کی وجہ سے ڈلیوال کو سانس لینے میں دشواری ہوئی اور انہیں ہاسپٹل میں داخل کرانا پڑا۔کسان تنظیموں نے بتایا کہ جگجیت سنگھ دلیوال کی صحت بہتر ہو رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں۔چہارشنبہ کو شمبھو اور کھنوری سرحد پر حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب ہریانہ پولیس نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کر رہے احتجاجی کسانوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے۔ ذرائع کے مطابق کسان لیڈروں نے مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں باضابطہ طور پر بتائے کہ وہ فصلوں کے لیے ایم ایس پی کی قانونی ضمانت فراہم کرنے کے بارے میں بات کرنے کے لیے تیار ہے۔کسان کل صبح ‘دہلی چلو’ مارچ کے ایک حصے کے طور پر 1200 ٹریکٹر ٹرالیوں، 300 کاروں اور 10 منی بسوں کے ساتھ پنجاب اور ہریانہ کو ملانے والی کھنوری سرحد پر جمع ہوئے تھے۔ مرکزی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب کی بھگونت مان حکومت کسانوں کو سرحد کی طرف آنے سے نہیں روک رہی ہے۔ پنجاب کے چیف سکریٹری انوراگ ورما نے مرکزی داخلہ سکریٹری کو اپنے مکتوب میں کہا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ لوگ شمبھو اور دھابھی۔گجراں سرحد پر صرف پنجاب حکومت کی اجازت سے جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ پولیس نے طاقت کا استعمال کر کے کسانوں کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ انہیں روکنے کی وجہ سے لوگ پنجاب اور ہریانہ کی سرحد پر جمع ہو گئے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کسان 14 مارچ کو دہلی میں مہاپنچایت منعقد کریں ٹ جبکہ 26 فروری کو ٹریکٹر مارچ ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *