News4

راجیہ سبھا کی تین نشستوں کیلئے کانگریس اور بی آر ایس کی سرگرمیاں

8 فروری سے پرچہ نامزدگی کا ادخال،کانگریس نے امیدواروں کا انتخاب ہائی کمان پر چھوڑ دیا، بی آر ایس کو ایک نشست پر کامیابی کی امید

حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں راجیہ سبھا کی تین نشستوں کیلئے الیکشن کمیشن انتخابی اعلامیہ 8 فروری کو جاری کرے گا ۔ کانگریس اور بی آر ایس میں لوک سبھا نشست کے لئے سینئر قائدین کی جانب سے سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ قانون ساز اسمبلی نے عددی طاقت کے اعتبار سے کانگریس کو 2 اور بی آر ایس کو ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوگی۔ دس سال کے وقفہ کے بعد ریاست میں اقتدار حاصل کرنے والی کانگریس پارٹی کے کئی سینئر قائدین نے راجیہ سبھا کی نشست کے لئے اپنی دعویداری پیش کردی ہے اور کانگریس میں دو نشستوں کے لئے تقریباً 20 سے زائد سینئر قائدین نے ہائی کمان تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اسمبلی چناؤ میں اقتدار سے محرومی کے بعد سابق چیف منسٹر کے سی آر کیلئے ایک نشست کے امیدوار کا انتخاب کرنا آسان نہیں ہوگا۔ 2 اپریل کو جن تین ارکان راجیہ سبھا کی میعاد ختم ہورہی ہے، ان میں جے سنتوش کمار ، وی روی چندر اور بی لنگیا یادو شامل ہیں۔ میعاد کی تکمیل کرنے والے تینوں ارکان کی کوشش ہے کہ انہیں دوبارہ راجیہ سبھا کیلئے منتخب کیا جائے ۔ سنتوش کمار سابق چیف منسٹر کے رشتہ دار اور بااعتماد ساتھی ہیں ، لہذا امید کی جارہی ہے کہ سنتوش کمار کو دوبارہ امیدوار بنایا جاسکتا ہے کیونکہ نئی دہلی میں سیاسی سرگرمیوں کیلئے کے سی آر کو بااعتماد شخص کی ضرورت ہے۔ حالیہ اسمبلی چناؤ میں ٹکٹ سے محروم بی آر ایس کے بعض دیگر قائدین بھی راجیہ سبھا نشست کی دوڑ میں ہیں۔ دوسری طرف کانگریس نے راجیہ سبھا امیدواروں کے انتخاب کا معاملہ پارٹی صدر ملکارجن کھرگے پر چھوڑ دیا ہے ۔ پردیش الیکشن کمیٹی لوک سبھا امیدواروں کے بارے میں ناموں کی سفارش کرے گی جبکہ راجیہ سبھا امیدواروں کا مکمل اختیار ہائی کمان کو دیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے دو نشستوں میں ایک پر سابق صدر کانگریس سونیا گاندھی کو امیدوار بنانے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کیلئے سونیا گاندھی سے اظہار تشکر کیا جاسکے۔ سونیا گاندھی کو کھمم یا میدک لوک سبھا حلقوں سے مقابلہ کی پیشکش بھی کی جاچکی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ پارٹی ہائی کمان دو نشستوں میں سونیا گاندھی کے بجائے کسی اور قومی قائد کو امیدوار بنانے پر غور کر رہا ہے ۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے جن قائدین نے اپنی دعویداری پیش کی ہے ، ان میں کے جانا ریڈی ، رینوکا چودھری ، وی ہنمنت راؤ ، جی چنا ریڈی ، مدھو یاشکی گوڑ ، سمپت کمار ، ومشی چند ریڈی ، اے دیاکر اور دوسرے شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین بھی راجیہ سبھا کی نشست کی دوڑ میں ہیں لیکن کسی مسلم قائد کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے کے امکانات انتہائی کم ہے۔ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق 8 فروری سے پرچہ نامزدگی کے ادخال کا آغاز ہوگا۔ 20 فروری کو نام واپس لئے جاسکتے ہیں۔ اگر صرف تین امیدوار میدان میں ہوں تو بلا مقابلہ انتخاب عمل میں آئے گا جبکہ کانگریس کی جانب سے تیسرا امیدوار کھڑا کرنے پر 27 فروری کو رائے دہی ہوگی۔ 1

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *