سزا یافتہ مجرموں کا ڈیٹا تا عمر رکھنا یوروپی قوانین کی خلاف ورزی

مجرموں کی انگلیوں کے نشانات، تصاویر اور ڈی این اے محفوظ رکھنا اب غیر قانونی

دی ہیگ : یورپی عدالت انصاف کے ایک حالیہ فیصلے کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک میں پولیس کی جانب سے سزا یافتہ مجرموں کا ڈیٹا ان کے انتقال تک محفوظ رکھنا مروجہ یورپی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ یورپی یونین کی اس اعلیٰ ترین عدالت نے اپنا یہ فیصلہ رکن ملک بلغاریہ کی ایک عدالت کی ایسی کارروائی کے پس منظر میں سنایا، جو ایک ایسے بلغارین شہری کے خلاف مقدمے سے متعلق تھی، جسے ماضی میں بطور گواہ ملکی عدالت میں غلط بیانی کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ شخص اپنی ایک سال کی سزائے قید کاٹنے کے بعد پولیس ریکارڈ سے اپنی ذاتی معلومات ختم کروانا چاہتا تھا۔ اس نے پولیس حکام کو درخواست بھی دی تھی، لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ بلغاریہ میں نافذ ملکی قوانین کے تحت پولیس سزا یافتہ مجرموں کی انگلیوں کے نشانات، تصاویر اور ڈی این اے کے نمونوں کے ساتھ ساتھ ان کے جرائم سے متعلق ڈیٹا ایسے مجرموں کی موت تک محفوظ رکھ سکتی ہے اور ایسا کرتی بھی ہے۔ اس بارے میں یورپی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے اب اس عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے کہ سزا یافتہ مجرموں کو یہ حق حاصل ہے کہ رکن ممالک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے افراد کو ذاتی اور ان کے جرائم سے متعلق ڈیٹا ان کی موت تک محفوظ نہ رکھیں۔ اس یورپی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سزا یافتہ مجرموں کا ڈیٹا ان کے انتقال تک پولیس کی جانب سے محفوظ رکھا جانا صرف مخصوص حالات میں ہی جائز ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اگر ایسی معلومات کا مستقل محفوظ رکھا جانا جرائم کی روک تھام، تفتیش اور عدالتی کارروائی یا مجرموں کے سنائی گئی سزاؤں پر عمل درآمد کے لیے بوجوہ ضروری اور یوں جائز قرار دے بھی دیا جائے، تو بھی ایسے محفوظ ڈیٹا کا وقتاً فوقتاً جائزہ‘‘ لیا جاتا رہنا چاہیے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک میں مجموعی طور پر پرسنل ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ ہیں۔ اس سلسلے میں اس بلاک کا 2018ء کا جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن تو بین الاقوامی سطح پر خصوصی اہمیت کا حامل قانون سمجھا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *