سی آئی اے کا ڈیٹا لیک کرنے پر سابق ملازم کو 40 سال قید کی سزا

واشنگٹن: امریکا میں خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق ملازم جوشوا شولٹ کو ایجنسی کا ڈیٹا لیک کرنے پر چالیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے سابق ملازم نے ملکی تاریخ میں سب سے بڑے پیمانے پر ڈیٹا لیک کیا تھا، ملزم جوشوا شولٹ پر 2016 میں ویکی لیکس کو ڈیٹا دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 2022 میں ان پر قومی دفاع سے متعلق معلومات کو غیرقانونی طور پر جمع کرنے، آگے منتقل کرنے اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کا جرم ثابت ہوا، 2023 میں شولٹ چائلڈ پورنو گرافی کا مواد حاصل کرنے، پاس رکھنے اور آگے منتقل کرنے کا مجرم بھی قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جوشوا شولٹ نے سائبر انٹیلی جنس میں کام کیا اور ایسے ٹولز بنائے جن کی مدد سے خفیہ ڈیٹا اس طرح سے لیا گیا جس کی نشاندہی نہیں ہو سکتی تھی۔

اٹارنی جنرل ڈیمین ولیمز کا کہنا ہے جوشوا شولٹ نے امریکی تاریخ میں جاسوسی کے انتہائی گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کر کے اپنے ملک کو دھوکا دیا۔

اٹارنی جنرل ڈیمین ولیمز نے مزید بتایا کہ ایف بی آئی نے جب شولٹ کو پکڑا تو وہ ملکی سلامتی کیلئے مزید خطرناک ہو کر سامنے آیا اور جنگ کے حوالے سے معلومات کی اشاعت کا باعث بنا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *