صارفین مکمل قیمت ادا کریں‘ حکومت سبسیڈی رقم بنک کھاتہ میں جمع کریگی

گیس سبسیڈی اسکیم کیلئے رہنماخطوط کی اجرائی
سالانہ 3 تا 5 سلینڈرس پر سبسیڈی دینے کا فیصلہ، ڈیلرس سے تبادلہ خیال کے بعد محکمہ سیول سپلائز کے احکام
حیدرآباد ۔ 24 فبروری (سیاست نیوز) محکمہ سیول سپلائز نے 500 روپئے گیس سلنڈر اسکیم کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری کرکے اسکیم کی عمل آوری کے تعلق سے عوام میں موجود بے چینی کو دور کردیا ہے۔ مرکزی حکومت جس طرح پکوان گیس پر سبسیڈی جاری کرتی ہے، وہی طریقہ کار اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسکیم کے اہل گھریلو صارفین کو گیس سلینڈر حاصل کرتے وقت جملہ 955 روپئے ادا کرنا ہوگا بعد میں حکومت صارفین کے بنک کھاتوں میں 455 روپئے جمع کریگی۔ اسکیم کے وہی لوگ اہل ہیں جنہوں نے پرجاپالنا پروگرام میں درخواستیں داخل کی ہیں اور جن کے پاس سفید راشن کارڈ موجو دہے۔ اسکیم کے اہل افراد خاندان کی جانب سے گذشتہ تین سال سے کتنے سلنڈرس استعمال کررہے ہیں اس کا جائزہ لیتے ہوئے سلنڈرس سربراہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسی حساب سے پکوان گیس سلنڈرس کی سبسیڈی فراہم کی جائیگی۔ سیول سپلائز عہدیداروں نے بتایا کہ اس اسکیم کیلئے 40 لاکھ افراد اہل قرار پائے ہیں ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس اسکیم کیلئے تمام تیاریاں کرلی گئی ہیں۔ ڈیلرس سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ اہل خاندان کی جانب سے 3 سال تک استعمال کی گئی پکوان گیس کا حساب کرتے ہوئے سالانہ اوسطاً تین تا پانچ سلنڈرس کی سبسیڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ریاست میں ایک کروڑ 20 لاکھ گیس کنکشن ہیں، جن میں 90 لاکھ افراد کے پاس راشن کارڈس ہیں۔ ریاست میں اجولا اسکیم کے تحت مرکزی حکومت تقریباً 10 لاکھ خاندان کو ماہانہ 300 روپئے سبسیڈی دے رہی ہے۔ انہیں بھی مہالکشمی اسکیم کے استفادہ کنندگان میں شامل کرنے کی اطلاعات ہیں۔ سیول سپلائز کے کمشنر نے گیس ڈیلرس سے اجلاس طلب کیا تھا انہوں نے اسکیم پر عمل آوری کیلئے اپنی طرف سے مکمل تعاون کرنے کی رضامندی ظاہر کی تاہم یہ بھی کہا کہ اس کیلئے آئیل کمپنیوں کی رضامندی لازمی ہے اور انہیں وزارت پٹرولیم کی منظوری چاہئے۔ تکنیکی مسائل کا جائزہ لینے کے بعد پکوان گیس سلنڈر کی سربراہی کے وقت اہل صارفین سے مکمل فیس وصول کرتے ہوئے صارفین کے بنک کھاتوں میں سبسیڈی رقم جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *