متحدہ عرب امارات کا ”گولڈن ویزا“ کیسے حاصل کریں؟

متحدہ عرب امارات کا گولڈن ویزا یو اے ای میں طویل مدتی رہائش کا ایک غیر معمولی موقع ہے، خاص طور پر ان افراد کے لئے جو یو اے ای میں ملازمت نہیں رکھتے ہیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق چاہے آپ کاروباری، سرمایہ کار، سائنسدان یا طالب علم ہیں، اس پروگرام سے یو اے ای میں خوشحال مستقبل کی نئی راہیں کھل جاتی ہیں، جامع اہلیت کے معیار اور وسیع فوائد کے ساتھ، گولڈن ویزا ایک بہترین آپشن ہے۔

روایتی ملازمت کے بغیر ”گولڈن ویزا“ حاصل کرنے کے 5 اہم زمرے ہیں؟

سائنسدان اور محققین:
انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، لائف سائنسز اور نیچرل سائنسز جیسے شعبوں میں شاندار کامیابیوں کے حامل امیدوار جو اعلیٰ یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی یا ماسٹر ڈگری رکھتے ہیں۔

بہترین طلباء:
متحدہ عرب امارات کے ثانوی اسکولوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء، UAE کی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل یا تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر دنیا بھر کی 100 اعلیٰ یونیورسٹیوں کے اعلیٰ کارکردگی کے حامل طلباء مستفید ہو سکتے ہیں۔

جائیداد کے خریدار:
2 ملین درہم یا اس سے زیادہ مالیت کی جائیداد میں سرمایہ کاری کرنے والے اس ویزا کے اہل ہیں، لیکن واضح رہے کہ دبئی نے حال ہی میں AED 1 ملین ڈاؤن ادائیگی کی شرط کو ختم کر دیا ہے۔ آپ آف پلان پراپرٹیز بھی خرید سکتے ہیں جو ابھی زیر تعمیر ہیں اور قسطوں میں ادائیگی کر سکتے ہیں۔

کیش ڈپازٹ:
زیادہ متمول افراد 2 سال کے لیے مقامی بینک میں 2 ملین درہم جمع کر کے اہل ہو سکتے ہیں۔

برطانیہ کا گولڈن ویزا اور شہریت سے متعلق اہم فیصلہ

کاروباری افراد:
وہ افراد جو UAE SME کیٹیگری میں کسی اسٹارٹ اپ کے مالک یا شراکت دار ہیں، جو کم از کم AED 1 ملین کی سالانہ آمدنی پیدا کرتے ہیں، یا اس سے پہلے کم از کم AED 7 ملین میں کوئی پروجیکٹ فروخت کر چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *