News4

مختلف طبقات کی بہبود کیلئے جملہ بجٹ کا 31.81 فیصد حصہ مختص

حکومت تلنگانہ کا تاریخ ساز کارنامہ، محمد علی شبیر اور عظمت اللہ حسینی کا ردعمل

حیدرآباد۔11فروی(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست میں مختلف طبقات کی بہبود کے لئے جو بجٹ مختص کیا ہے وہ جملہ بجٹ کا 35.81فیصد ہے جو کہ اب تک بجٹ کی تاریخ میں مثالی تخصیص ہے۔ جو لوگ بجٹ کی تخصیص کے متعلق حکومت پر سوال اٹھا رہے ہیں انہیں بجٹ کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مکمل بجٹ اور علی الحساب بجٹ میں موجود فرق جنہیں پتہ نہیں ہے وہ لوگ حکومت کی جانب سے مختلف محکمہ جات کے مختص بجٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت کو بدنام کررہے ہیں۔ جناب محمد علی شبیر مشیر حکومت برائے ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلیتی طبقات نے ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر فینانس مسٹر ملو بھٹی وکرمارک کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ ریاست کے تمام طبقات کی مجموعی ترقی کے لئے کافی ہے۔ جناب محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت نے جملہ 2لاکھ 75ہزار 891کروڑ کا بجٹ پیش کیا ہے جس میں 98 ہزار645 کروڑ فلاح و بہبود کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت نیعوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کے لئے 53ہزار 196 کروڑ روپئے بجٹ مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان 6ضمانتوں کے استفادہ کنندگان میں کوئی ایک مخصوص طبقہ یا مذہب کے لوگ نہیں ہیں بلکہ ریاست کے تمام شہری ان 6ضمانتوں سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔ مشیر حکومت برائے ایس سی ایس ٹی بی سی و اقلیتی طبقات نے بتاے کہ کانگریس نے ریاست کے عوام سے جو وعدہ کیا تھا اسے علی الحساب بجٹ میں ہی پورا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی ہے اور مکمل بجٹ جب پیش کیا جائے گا اس وقت یہ بات واضح ہوجائے گی کہ برسراقتدار جماعت عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے معاملہ میںکس طرح سے سرگرم عمل ہے۔ جناب محمد علی شبیر نے بجٹ کے مختلف نکات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے شہری ترقیات ‘ تعلیم اور صحت کے امور کا بھی بجٹ میں خصوصی خیال رکھا ہے۔ جناب عظمت اللہ حسینی رکن تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے حکومت تلنگانہ کے بجٹ کو تلنگانہ کے نئے دور کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 53ہزار196 کروڑ روپئے 6ضمانتوں کے لئے مختص کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ حکومت کی جانب سے تمام طبقات کی ترقی کے لئے راہیں ہموار کی جا رہی ہیں اور بجٹ میں ہر خاندان کو حصہ فراہم کیا جا رہاہے۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت کے پہلے علی الحساب بجٹ کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایس ٹی ‘ ایس سی ‘ بی سی اور اقلیتی طبقات کی بہبود کے ساتھ ریاست کے تمام شہریوں کی بہبود کے سلسلہ میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لئے جو بجٹ مختص کیا ہے اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے ۔ رکن تلنگانہ وقف بورڈ نے کہا کہ حکومت نے علی الحساب بجٹ میں خاطر خواہ رقومات مختص کی ہیں اور جو لوگ حکومت کے بجٹ پر اعتراض کر رہے ہیں اور استفسار کر رہے ہیں کہ کانگریس کی جانب سے جاری کئے گئے ’اقلیتی اعلامیہ ‘ کا کیا ہے تو انہیں پہلے بجٹ کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہئے ۔ انہو ںنے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا بجٹ علی الحساب بجٹ ہے اسی لئے یہ استفسار کرنا ہی درست نہیں ہے کہ اقلیتی اعلامیہ میں کئے گئے وعدہ کا کیا ہوا لیکن اس کے باوجود سال گذشتہ جو بجٹ سابقہ حکومت کی جانب سے مکمل بجٹ میں دیا گیا تھا اس سے زیادہ بجٹ کی تخصیص کانگریس حکومت نے علی الحساب بجٹ میں کی ہے۔ جناب عظم اللہ حسینی کہا کہ 6ضمانتوں کے علاوہ ایس سی ‘ ایس سی ‘ بی سی اعلامیہ اور اقلیتی اعلامیہ میں اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں پر کانگریس حکومت کی جانب سے من و عن عمل آوری کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہو ںنے بتایا کہ اقلیتی اعلامیہ میں جو وعدے کئے گئے ہیں ان تمام وعدوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں کانگریس حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور ماہ جولائی میں جب حکومت کی جانب سے مکمل بجٹ پیش کیا جائے گا اس وقت اقلیتی بجٹ کے علاوہ دیگر محکمہ جات کے بجٹ اور بہبود کے بجٹ میں بھی زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔حکومت تلنگانہ نے مالی سال کے اختتام سے قبل 2024-25مالی سال کے لئے علی الحساب بجٹ پیش کیا ہے جو کہ عام طور پر پہلے سہ ماہی کے لئے ہوتا ہے لیکن عام انتخابات کے پیش نظر ریاستی حکومت کی جانب سے 4 ماہ کے اخراجات کی تکمیل کے لئے بجٹ مختص کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے علی الحساب بجٹ پیش کئے جانے کی صورت میں ملک کی کوئی بھی ریاست مکمل بجٹ پیش کرنے کے موقف میں نہیں ہوتی کیونکہ مرکزی بجٹ میں ریاستوں کو حاصل ہونے والے حصہ کا جائزہ لینے کے بعد ہی حکومتوں کی جانب سے اپنے مکمل بجٹ کی تیاری عمل میں لائی جاتی ہے اور ملک میں عام انتخابات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے علی الحساب بجٹ پیش کیا ہے ۔3

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *