میگا ڈی ایس سی کے ذریعہ 11 ہزار ٹیچرس کا تقرر کرنے کی تیاریاں

محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کی چیف منسٹر سے ملاقات، منظوری کیلئے فائل محکمہ فینانس کو روانہ
حیدرآباد ۔ 24 فبروری (سیاست نیوز) کانگریس حکومت ملازمتوں کی فراہمی کے وعدے کو پورا کرنے کیلئے سنجیدہ کوشش کررہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے قبل میگا ڈی ایس سی کا انعقاد کرتے ہوئے 11 ہزار ٹیچرس کی جائیدادوں پر تقررات کرنے کی تاریاں کی جارہی ہے۔ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدیداروں نے دو دن قبل چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے ٹیچرس کی مخلوعہ جائیدادوں، ان پر تقررات، قانونی مسائل پر تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ چیف منسٹر نے ترقیوں کے ذریعہ مخلوعہ ہونے والی جائیدادوں کو چھوڑ کر ماباقی جائیدادوں پر ڈی ایسسی کے تقررات کرنے کا عہدیداروں کو مشورہ دیا جس کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے ٹیچرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہے۔ اس کی منظوری کیلئے محکمہ فینانس کو فائل روانہ کردی گئی ہے۔ محکمہ فینانس سے منظوری ملتے ہی فوری نوٹیفکیشن جاری کردینے کے امکانات ہیں۔ سابق بی آر ایس حکومت نے اسمبلی انتخابات سے قبل 5089 ٹیچرس جائیدادوں پر تقررات کیلئے ڈی ایس سی نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ ان جائیدادوں کیلئے 1,77,502 افراد نے درخواستیں داخل کی ہے۔ ڈی ایس سی امتحان کے وقت ہی رائے دہی کی تاریخ کا اعلان ہونے پر ڈی ایس سی کو منسوخ کردیا گیا تھا۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ ریاست میں سرکاری اسکولس میں ڈی ای اوز، ڈپٹی ڈی ای اوز کے بشمول جملہ 21 ہزار ٹیچرس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں، جن میں اسکول اسسٹنٹس کو ترقی دینے سے 1974 ہیڈماسٹرس کو ترقی دینے سے 2043 پرائمری اسکولس میں ہیڈ ماسٹرس کی جائیدادوں پر تقررات کرنا ہے۔ اسکول اسسٹنٹ کے 7200 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ان میں 70 فیصد ترقیوں سے ماباقی 30 فیصد جائیدادوں پر راست طور پر تقررات کرنا ہے۔ ترقیوں کا عمل عدالتی کشاکش کا شکار ہے، جس کے پیش نظر عہدیدار مخلوعہ جائیدادوں پر راست ڈی ایس سی کے ذریعہ تقررات کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس طرح ایس جی ٹی ٹیچرس کی 6775 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ان پر تقررات کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ پنڈت اور پی ای ٹی کی تقریباً 800 جائیدادیں مخلوعہ ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس حساب سے 11 ہزار سے زیادہ جائیدادوں پر ڈی ایس سی کے ذریعہ تقررات کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *