نیوزی لینڈ میں ناکامی، کامران اکمل ٹیم منیجمنٹ پر برس پڑے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل نیوزی لینڈ میں ٹی ٹوئنٹی سیریز میں گرین شرٹس کی شکست کے بعد ٹیم منیجمنٹ کے فیصلوں پر برس پڑے۔

پاکستان نے حال ہی میں نیوزی لینڈ سے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں چار ایک سے شکست کھائی ہے۔ اس بدترین کارکردگی پر کرکٹ سے محبت کرنے والا ہر شخص حیران ہے تجزیہ کار اور سابق کرکٹرز بھی اس کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سابق وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل نے سیریز میں شکست پر کہا کہ پاکستان اتنی بری ٹیم نہیں تھی کہ چار صفر سے یہ سیریز ہارتی، گرین شرٹس نیوزی لینڈ کے مقابلے میں تگڑی ٹیم تھی اور اسے کم از کم یہ سیریز جیتنی چاہیے تھی لیکن  پوری سیریز میں کھلاڑیوں میں وہ جوش اور جذبہ نظر نہیں آیا جس کے ساتھ جیتا جاتا ہے۔

کامران اکمل کا کہنا تھا کہ ہر ٹیم منیجمنٹ چاہتی ہے کہ ان کی ٹیم جیتے اور اچھا اسکور کرے لیکن اس کے لیے جس نمبر کا کھلاڑی ہو اس کو اسی نمبر پر کھلایا جائے، جب کھلاڑیوں کو اِدھر اُدھر کیا جاتا ہے تو کھلاڑی بھی پریشان اور نتائج بھی حسب منشا نہیں آتے۔

انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ کپتان نیا تھا جو درست ہے لیکن ٹیم منیجمنٹ تو بہت تجربہ کار تھی، جب اوپنر کو ساتویں نمبر پر کھلائیں گے تو اس سے بیٹنگ میں کیا توقع رکھیں گے۔ صاحبزادہ فرحان اوپن کرتا ہے اور تین سال سے پرفارمنس دے رہا ہے لیکن اسے آخری میچ میں اسے ساتویں نمبر پر بھیج دیا۔

سابق کرکٹر نے کہا کہ جب اوپنر کو ساتوٰں نمبر کھلائیں گے تو یہی نتیجہ آئے گا۔ کیا ضرورت تھی حسیب اللہ کا کھلانے کی اس کی جگہ صاحبزادہ فرحان سے اوپن کراتے۔ جب سیریز کا تین میچز کے بعد ہی فیصلہ ہو گیا تھا تو بابر اعظم، رضوان اور حارث رؤف کو آرام دے کر نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

کامران اکمل نے یہ بھی کہا کہ سمجھ نہیں آتا ٹیم منیجمنٹ کرنا کیا چاہتی ہے۔ عارضی نتائج کے لیے شارٹ کٹ کے راستے ختم کرنا ہوں گے۔ نئے کھلاڑیوں کو آزمائے بغیر بیک اپ تیار نہیں ہو سکتا۔ ٹیم منیجمنٹ کو چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں کو ان کے کردار سے آگاہ کریں اور ان پر پرفارمنس کرنے کی ذمے داری ڈالیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *