News4

نیک نام پورہ میں کروڑہا روپیوں کی وقف جائیداد پر قبضہ و فروخت

وقف بورڈ کی مساعی ناکافی، ٹریبونل فیصلہ کے باوجود لینڈ گرابرس کا راج
حیدرآباد10 فروری، ( سیاست نیوز) شہر کے علاقہ نیک نام پورہ میں کروڑہا روپئے کی اوقافی جائیداد پر ناجائز قبضوں اور فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ کروڑہا روپئے مالیتی اس اوقافی جائیداد کے تحفظ میں ریاستی وقف بورڈ کی کوششیں ناکافی ثابت ہورہی ہیں۔ سرکاری محکموں محکمہ مال، وقف بورڈ و دیگر محکموں کی جانب سے سروے کی گئی مصدقہ اوقافی جائیداد جو درج اوقاف اور باضابطہ گزٹ کے علاوہ ٹریبونل کا فیصلہ رکھنے کے باوجود اس کروڑہا روپئے کی جائیداد کا تحفظ دن بہ دن غیر یقینی ہوتا جارہا ہے۔ نیک نام پورہ میں واقع درگاہ حضرت روح اللہ ابراہیم باغ کی اراضی پر قبضوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ ناجائز قبضوں کے متعلق انسپکٹر آڈیٹر وقف کی جانب سے نارسنگی پولیس میں شکایت کی گئی اور چار ماہ کا عرصہ گذرنے کو ہے لیکن پولیس کی جانب سے تاحال لینڈ گرابرس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ حالانکہ وقف ٹریبونل نے اراضی کی حصار بندی کا حکم دیتے ہوئے سالوں قبل فیصلہ سنایا تھا۔ باوجود اس کے وقف بورڈ نے درگاہ کے متولی اور منیجنگ کمیٹی کو اپنے فنڈز سے حصار بندی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ فنڈز کی قلت کے سبب تاحال حصار بندی کا کام موقوف رہا جس کے سبب 13 ایکڑ 26 گنٹے پر محیط اس اراضی پر ناجائز قبضے کرلئے گئے اور 60 گز کے لحاظ سے پلاٹس فروخت ہونے لگے ہیں۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ بغیر سرکاری مداخلت اور سیاسی اثر و رسوخ کے پلاٹس کی فروخت ممکن نہیں۔ اس وقف اراضی کو کس طرح سے باقاعدہ بنایا جاسکتا ہے اگر باقاعدہ نہیں بنایا گیا تو پھر فروخت کس طرح ہورہی ہے۔ محکمہ ریوینیو کی سرد مہری اور سیاسی اثر و رسوخ اس وقف اراضی کی تباہی کا سبب بنا ہوا ہے۔ سال 2012 میں وقف بورڈ کو وقف ٹریبونل نے اپنی نگرانی میں حصار بندی کردینے کی ہدایت دی تھی۔ اس اراضی کے تحفظ کیلئے گذشتہ 18 سال سے جدوجہد میں جٹی ہوئی منیجنگ کمیٹی مسلسل جدوجہد کررہی ہے۔ صدر منیجنگ کمیٹی سید خواجہ محمود نے اس سلسلہ میں بتایا کہ جس وقت ٹریبونل نے وقف بورڈ کی نگرانی میں حصار بندی کی ہدایت دی تھی اس وقت وقف بورڈ نے منیجنگ کمیٹی کو اپنے فنڈز سے حصار بندی کروانے کیلئے کہا تھا۔ لیکن کمیٹی کے پاس فنڈز کی کمی سے حصار بندی کا کام تعطل کا شکار رہا اور اب جب اقدامات کی کوشش کی جارہی ہے تو لینڈ گرابرس رکاوٹ بن رہے ہیں۔ لینڈ گرابرس کی ان حرکتوں پر روک لگانے میں سرکاری محکموں کی بے بسی معنی خیز ثابت ہورہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس 13 ایکڑ 26 گنٹے درج وقف جائیداد کی تقریباً نصف اراضی قبضوں کی نذر ہوچکی ہے۔ حکام کو چاہیئے کہ وہ اس کروڑہا روپئے مالیتی اوقافی جائیداد کے تحفظ کیلئے جلد از جلد اقدامات انجام دے اور لینڈ گرابرس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرتے ہوئے اوقافی جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *