ن لیگ کو کتنی نشستیں ملنے کی امید تھی؟ مرکزی رہنما مصدق ملک کا اہم بیان آگیا

لاہور ( پی این آئی) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء مصدق ملک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ اپنے جیتے ہوئے آزاد ارکان پر نظر رکھیں،پی ٹی آئی کے لوگوں کا جماعت چھوڑنے کا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں،ہم سمجھتے تھے 85 سے 100تک سیٹیں ملیں گی۔

لیکن کم سیٹیں ملی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال تھا اور پولز بتارہے تھے اس سے کم سیٹیں ملی ہیں، ہم سمجھتے تھے کہ ہمیں 85 سے 100تک سیٹیں ملیں گی۔لیکن ہمیں کم سیٹیں ملی ہیں، ووٹرز اور سپورٹرز کا شکرگزار ہوں۔ اس وقت تمام آزاد امیدوار 100کے قریب ہیں، جن میں سب پی ٹی آئی کے نہیں ہیں، لیکن زیادہ ان میں پی ٹی آئی کے ہیں،یہ پی ٹی آئی پر منحصر ہے کہ وہ آگے کیسے چلتی ہے،ورنہ ابھی نئی جماعت کا نام بھی طے نہیں ہوا تھا کہ سب اس میں شامل ہوگئے، امید ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ پی ٹی آئی میں ہی رہیں، مگر ان کا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ہم بھی ماضی میں اس طرح کی صورتحال سے گزرے ہیں۔ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ اپنے آزاد ارکان پر نظر رکھیں۔ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق بطور رجسٹرڈ جماعت سب سے زیادہ سیٹیں ملی ہیں، ہم نے ایم کیوایم پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں سے بھی رابطہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہم اکثریتی جماعت ہیں اور تنہاحکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔لیکن وفاق میں ہم تنہا حکومت نہیں بنا سکتے۔ دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری اورصدر ن لیگ شہبازشریف کے درمیان گزشتہ رات ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ جس کے تحت ملاقات میں شہبازشریف نے شکوہ کیا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے بے جا تنقید کی ، جس پر آصف زرداری نے کہا کہ وہ الیکشن کا حصہ تھا اس کو ختم کیا جائے۔ میاں صاحب ! آپ بھی تو جلسوں میں پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے رہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ اب ہمیں حکومت سازی کیلئے معاملات کو طے کرنا چاہیے، جمہوریت میں استحکام کیلئے مل کر فارمولے کو طے کرنا ہوگا، ہم اپنی جماعت سے مشاورت کرلیتے ہیں آپ بھی مشاورت کرلیں۔ جس پر شہبازشریف نے پارٹی قائد نوازشریف سے مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے۔

The post ن لیگ کو کتنی نشستیں ملنے کی امید تھی؟ مرکزی رہنما مصدق ملک کا اہم بیان آگیا appeared first on Pakistan News International – Latest Pakistani News in Urdu.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *