News4

وزیر اعظم کا 400 نشستوں پر یقینی جیت کا اظہار حیران کن

ای وی ایم پر شکوک و شبہات کا اظہار ، مودی کے دعویٰ پر اپوزیشن کا سوالیہ نشان
حیدرآباد۔7۔فروری(سیاست نیوز) وزیر اعظم کی جانب سے 400 نشستوں پر این ڈی اے کی کامیابی کے یقین کے اظہار نے الکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر شبہات کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے اورملک کی کئی اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم کے دعوے پر استفسارات کرنے شروع کردیئے ہیں۔ گذشتہ دنوں وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران اس بات کا اعلان کیا تھا کہ مجوزہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے اتحاد ملک میں 400 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گا اور بھارتیہ جنتا پارٹی تنہاء 370 نشستوں پر کامیابی کو یقینی بنائے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان پر کانگریس قائد ادھیررنجن چودھری نے وزیر اعظم کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک الکٹرانک ووٹنگ مشین میں کوئی دھاندلی نہ ہو ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ کوئی سیاسی قائدیا جماعت یہ کہہ سکے کہ انہیں کتنی نشستیں حاصل ہورہی ہیں۔ انہو ںنے استفسار کیا کہ مودی جی کو کس طرح سے پتہ چلا ہے کہ انہیں اتنی نشستیں حاصل ہونے والی ہیں!انہو ںنے شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ الکٹرانک ووٹنگ مشین میں کوئی راز چھپا ہوا ہے جس پر مودی جی کو اس قدر یقین ہے۔ کانگریس قائد نے عوامی رائے ’’ووٹ‘‘ کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عوامی رائے کو محفوظ کرتے ہوئے جمہوریت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔رکن پارلیمنٹ کانگریس مسٹر کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اب انتخابات کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب خود وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ ان کے اتحاد کو 400 نشستوں پر کامیابی حاصل ہورہی ہے تو اس کے بعد ملک میں انتخابات کے لئے کوئی راہ باقی نہیں رہی۔ مسٹر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو ہندستان کی جمہوریت پر اب بھی یقین ہے اور وہ عوامی رائے کو دیکھتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں مرکزی حکومت کے خلاف عوامی رائے بنی ہوئی ہے اور عوام چاہتے ہیں کہ برسراقتدار حکومت کو اقتدار سے بے دخل کریں۔انہو ںنے کہا کہ اس آمرانہ حکومت کی بے دخلی کے لئے عوامی رائے بنی ہوئی ہے اس کے باوجود اگر وزیر اعظم 400 نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کررہے ہیں تو ایسی صورت میں کئی شبہات جنم لیتے ہیں۔اسی طرح کانگریس قائد دپیندر سنگھ ہوڈا نے کہا کہ وزیر اعظم نعرہ لگا سکتے ہیں لیکن جمہوریت میں عوام کی رائے کی اہمیت ہوتی ہے اور عوام اپنا فیصلہ خود کریں گے۔ نیشنل کانفرنس سربراہ جناب فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کوئی جادوئی چراغ ہے جو وہ کہیں گے ہوجائے گا! راشٹریہ جنتا دل رکن راجیہ سبھا مسٹر منوج جھا نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے کامیابی کی نشستوں کے نمبر کا دعویٰ کیا جانا عوامی ذہنوں میں الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے متعلق شبہات پیدا کر تا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی کو 370 اور این ڈی اے کو 400 سے زائد نشستوں کی پیش قیاسی کر رہے ہیں جو کہ یہ ثابت کر تا ہے کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر کام ہوچکا ہے اور وہ سیٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ دوبارہ بھاری اکثریت سے اقتدار میں واپس آرہے ہیں لیکن ان کی جانب سے کامیابی کی نشستوں کے نمبر دیا جانا سیاسی جماعتوں ‘ قائدین اور عوام کے درمیان شبہات پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔وزیر اعظم کے بیان سے نہ صرف سیاسی جماعتوں اور قائدین بلکہ ملک کے دانشور طبقہ میں بھی الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے متعلق شبہات پیدا ہونے لگے ہیں اورمختلف گوشوں سے اس کا برملا اظہار کیا جا رہاہے۔3

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *