پی ٹی آئی آئینی اور قانونی طور پر سیاسی جماعت ہے، لطیف کھوسہ

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور نومنتخب رکن قومی اسمبلی لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی آئینی اور قانونی طور پر سیاسی جماعت ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور نومنتخب رکن قومی اسمبلی لطیف کھوسہ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی آئینی اور قانونی طور پر سیاسی جماعت کا وجود رکھتی ہے۔ عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دے کر مخالفین کو چاروں شانے چت کر دیا ہے اور ظلم کا بدلہ ووٹ سے لیا ہے جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم تو بلا لینے گئے تھے انھوں نے جہیز کا پورا سامان دے دیا۔ پی ٹی آئی کو ہاتھ پاؤں باندھ کر میدان میں اتارا گیا تو اس نے 25 کروڑ عوام میں اپنا مقدمہ پیش کیا اور عوام نے 8 فروری کو واضح مینڈیٹ دے دیا ہے۔ ہم نے جتنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اس پر پی ٹی آئی لکھا تھا، پی ٹی آئی پر پابندی نہیں ہم سے صرف نشان چھینا گیا ہے۔ ہم پی ٹی آئی سے ہیں، ہمیں انڈیپنڈنٹ کہنا غیر آئینی اور غلط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فارم 45 کے مطابق پی ٹی آئی کے 170 امیدوار جیت رہے ہیں، مخصوص نشستوں کو ملا کر پی ٹی آئی 200 کا ہندسہ بھی عبور کر سکتی ہے۔ یہ واحد الیکشن تھے جس میں ووٹرز امیدوار کو ڈھونڈ رہا تھا۔ سعد رفیق کو سراہتا ہوں کہ شکست کو تسلیم کیا اور مجھے فون پر مبارکباد دی جس پر میں نے ان سے کہا کہ وہ اپنے بڑوں کو بھی یہی درس دیں، اگر نواز شریف یاسمین راشد سے ہار گئے ہیں تو قبول کریں۔ خواجہ آصف، ریحانہ ڈار سے ہار گئے ہیں تو انہیں ہار مان لینی چاہیے۔ اس موقع پر تو میں خواجہ آصف کے لیے ان کے اپنے الفاظ ہی دہرا سکتا ہوں کہ ’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے‘۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ آرٹیکل 218 اور 220 کے تحت پانچ سال میں شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے لیکن یہاں تو چھٹے سال میں الیکشن ہوا ہے۔ حال یہ ہے کہ فارم 45 میں ہم جیت چکے لیکن فارم 47 میں ہرا دیا گیا، الیکشن کمیشن کا آئینی فریضہ ہے کہ اس کی تصحیح کرے اور مطالبہ ہے کہ فارم 45 کے مندرجات ہی فارم 47 میں ہونے چاہئیں۔ این اے 163 بہاولنگر میں پی ٹی آئی پہلے نمبر پر تھی، ن لیگ دوسرے اور اعجاز الحق تیسرے نمبر پر تھے اور یہاں سے تیسرے نمبر والے کو جتوا دیا۔

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ یہاں دو پارٹیوں میں یہاں بندر بانٹ ہو رہی ہے۔ ایک کہتا ہے 2 سال وزیراعظم تم اور 3 سال میں بن جاتا ہوں۔ کہا جا رہا ہے پنجاب کی وزارت اعلیٰ میری بیٹی کو دے دو پھر کہا جاتا ہے کہ صدر کا عہدہ ہمیں دے دو لیکن میں واضح کہتا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی اسمبلی، پارلیمنٹ اور جمہوریت چل سکتی ہے اور نہ ہی کوئی حکومت ان کے بغیر بن سکتی ہے۔ گارنٹی سے کہتا ہوں کہ نواز شریف واپس لندن بھاگے گا اور کہے گا مجھے کیوں بلایا۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو غیر آئینی اور غیر قانونی سزائیں دی گئی ہیں۔ ایک ہفتے میں تین تین سزائیں دی گئیں اور ان کے وکیل کو صفائی کا موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا ہمار مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی سزائیں کالعدم قرار دے کر فی الفور رہا کیا جائے۔ پارلیمان کے نمائندے سمیت کوئی بھی ہو سب عوام سے وفاداری کے پابند ہیں۔ آرٹیکل 5 میں وفاداری عوام اور ریاست سے ہونی چاہیے۔ ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ عوام اور  ریاست کے ساتھ وفاداری نبھائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *