کیا آپ ہلدی کے اس خطرناک نقصان سے واقف ہیں؟

ہلدی ہمارے کھانوں کا اہم جزو ہے تاہم بہت سے لوگ اس کے جادوئی فوائد سے واقف تو ہیں لیکن اس کا نقصان کیا ہوتا ہے بہت سے لوگ اس سے ناواقف ہیں۔

خالص ہلدی کی پہچان کیا ہے اور یہ کب جسم کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان دہ بن جاتی ہے؟ اس حوالے سے بی بی سی کی ایک رپورٹ میں اس کے مضرت اثرات سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔

کھانے میں ہلدی کا استعمال انسانی جسم میں سوزش اور جراثیم کے خاتمے اور وباؤں کی روک تھام کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہلدی کا اصل رنگ زرد نہیں بلکہ سنہری ہوتا ہے اور اس ضمن میں معلومات رکھنے والے لوگ اسے خریدتے وقت اس کے رنگ کو ہی مدِنظر رکھتے ہیں۔

لیکن جہاں ہلدی کے بہت سے طبی فائدے ہیں وہیں اس میں ہونے والی ملاوٹ سے انسانی صحت پر مضر اثرات پڑ سکتے ہیں۔

یہاں یہ سوال اہم ہے کہ کیسے پتا کیا جائے کہ جو ہلدی آپ اپنے کھانوں میں استعمال کر رہے ہیں وہ ملاوٹ سے پاک ہے؟ اس سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لیے بی بی سی نے ماہرین سے بات کی ہے۔

ہلدی میں ملاوٹ کیسے ہوتی ہے؟

ماہرین کا کہنا تھا کہ ہلدی میں ملاوٹ کرنے کا بنیادی مقصد پیسہ بنانا ہے، ہلدی کے پاؤڈر میں ملاوٹ کے لیے نشاستہ، ادرک کی جڑیں اور مصنوعی رنگ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہلدی میں ’ملاوٹ کرنے کا پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ اس میں آٹا یا نشاستہ ملا دیا جائے۔

دوسرا طریقہ ہے کہ اچھی کوالٹی کی ہلدی میں ناقص کوالٹی کی ہلدی ملا کر اس کی مقدار بڑھادی جاتی ہے جبکہ تیسرا طریقہ ہے کہ ہلدی کی کوالٹی کو مزید بہتر دکھانے کے لیے اس کے رنگ کو مزید نکھار دیا جاتا ہے جو کہ ہلدی میں مصنوعی رنگ شامل کرنے سے ہوتا ہے۔‘

مصنوعی رنگ میں کرومیٹ کے اجزا شامل ہوتے ہیں، لیڈ کرمیٹ نامی کیمیکل کا استعمال ہلدی کے رنگ کو مزید سنہرا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ دراصل دو کیمیلکلز لیڈ اور کرومیم کا مرکب ہے جسے ہلدی کی رنگت میں اضافے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ملاوٹ کرنے والے اس میں ایک مخصوص آئل کا استعمال کرتے ہیں اور یہ سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ آئل سرطان جیسے مرض کا باعث بن سکتا ہے

اسٹین فورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ لیڈ پوائزننگ کے کیسز بھارت میں سامنے آتے ہیں۔

محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ لیڈ کرومیٹ سے گُردوں اور دماغ پر اثر پڑتا ہے اور اس سے بچوں کی دماغی نشونما بھی رُک سکتی ہے۔

لیڈ پوائزننگ سے بچوں کی دماغی حالت پر ایسے اثرات بھی پڑ سکتے ہیں جس سے ان کی سوچنے و سمجھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *