News4

کیا مودی کے غرور کا سر پھر ہوگا نیچا؟

کسانوں کا آج دہلی میں زبردست احتجاج ۔ ایم ایس پی کیلئے قانونی ضمانت بڑا مطالبہ

نئی دہلی: کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر دہلی میں 12 مارچ تک تمام بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے بھی پورے دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ دہلی پولیس کمشنر سنجے اروڑہ کے جاری کردہ حکم کے مطابق قومی راجدھانی میں ٹریکٹروں کے داخلے پر بھی پابندی ہے۔ بندوقوں اور آتش گیر مواد کے ساتھ ساتھ اینٹوں اور پتھروں جیسے عارضی ہتھیار لے جانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اُتر پردیش، ہریانہ اور پنجاب کی زیادہ تر کسان یونینوں نے فصلوں کیلئے اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی ضمانت کیلئے قانون بنانے کے بشمول اپنے مطالبات منوانے کیلئے مرکز پر دباؤ ڈالنے 13 فروری کو احتجاج کی اپیل کی ہے۔مودی حکومت نے اس سے قبل کسانوں کے مفادات کے مغائر تین قوانین منظور کئے تھے جن کو منسوخ کرانے کیلئے دہلی کی سرحدوں پر شمالی ہند اور ملک کے دیگر حصوں سے کسانوں نے کئی ہفتے غیرمعمولی احتجاج کیا تھا، یہاں تک کہ وزیراعظم مودی کو کسانوں کے احتجاج کے آگے جھکنا پڑا اور اُنھوں نے تمام متنازعہ قوانین واپس لئے ۔ اس کے بعد بہت زیادہ عرصہ نہیں گذرا ہے کہ حکومت کسانوں کیلئے پھر وہی حالات پیدا کررہی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل کسان برادری اور مرکزی حکومت کے درمیان ایک اور ٹکراؤ ہوگا ۔ وہ کیا نکات ہیں جن کے تحت یہ تمام کسان دہلی آرہے ہیں۔ دہلی پولیس کے مطابق پٹرول اور سوڈا کی بوتلیں جمع کرنے پر مکمل پابندی ہے۔ 12 فروری سے 12 مارچ تک لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی دیئے گئے ہیں۔احتجاج کے پیش نظر پولیس نے 5 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں جبکہ سڑکیں بلاک کرنے کیلئے کرینیں اور دیگر بھاری گاڑیاں بھی تعینات کر دی ہیں۔ قومی دارالحکومت میں 13 فروری کو کسانوں کے مجوزہ ’دہلی چلو‘مارچ کے پیش نظر سنگھو، غازی پور اور ٹکری سرحدوں پر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ٹریفک پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ دہلی چلو احتجاج کیلئے پنجاب اور ہریانہ سے کسان چل پڑے ہیں ۔ کسانوں کی سرگرمی کو دیکھتے ہوئے پنجاب، ہریانہ اور دہلی میں الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کسانوں کے مارچ سے پہلے دہلی ٹریفک پولیس نے بھی ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *