News4

24 اسمبلی حلقہ جات کے ارکان اسمبلی کے خلاف ہائی کورٹ میں 30 انتخابی عذرداریاں

کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے خلاف بھی درخواستیں، انتخابی حلفنامہ میں غلط معلومات کی شکایت

حیدرآباد۔/28جنوری، ( سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات کے نتائج کے ساتھ ہی ہائی کورٹ میں انتخابی عذرداری کی درخواستوں کے ادخال کا آغاز ہوچکا ہے۔ ریاست کے 24 اسمبلی حلقہ جات میں کامیاب امیدواروں کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں 30 انتخابی عذرداریاں داخل کی گئیں۔ کانگریس امیدوار کے کے مہیندر ریڈی جنہیں سرسلہ اسمبلی حلقہ سے بی آر ایس امیدوار کے ٹی آر کے مقابلہ شکست ہوئی تھی انہوں نے کے ٹی آر کی جانب سے الیکشن کمیشن کو داخل کردہ حلفنامہ میں گمراہ کن معلومات کی شکایت کی ہے۔ انہوں نے کے ٹی آر کے فرزند کے نام پر 32 ایکر اراضی کی خریدی سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کئے۔کے ٹی آر نے امریکن یونیورسٹی میں اپنے فرزند کی فیس کی ادائیگی سے متعلق بھی جو تفصیلات داخل کی ہیں اس پر کانگریس قائد نے اعتراض جتایا ہے۔ درخواست گذار نے کہا کہ فرزند کی جانب سے اراضی کی خریدی کیلئے ذرائع آمدنی کی وضاحت کی جائے۔ سرینواس نامی شخص نے ایک علحدہ انتخابی عذرداری میں فرزند کے اثاثہ جات پیش نہ کرنے کی شکایت کی اور سرسلہ میں وی وی پیاٹس کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کے جی چندر شیکھر گوڑ نے سابق وزیر ٹی ہریش راؤ کے سدی پیٹ اسمبلی حلقہ سے انتخاب کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست دائر کی ہے۔ کانگریس لیڈر محمد اظہر الدین اور وی نوین یادو نے جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ سے بی آر ایس کے ایم گوپی ناتھ کے انتخاب کو چیلنج کیا ہے۔ گوپی ناتھ نے 16337 ووٹ کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی لیکن کانگریس امیدوار محمد اظہر الدین کی شکایت ہے کہ رائے شماری میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ کوکٹ پلی اسمبلی حلقہ میں کانگریس کے بنڈی رمیش نے بی آر ایس رکن اسمبلی ایم کرشنا راؤ کے خلاف انتخابی عذرداری داخل کی۔ حضورآباد میں بی جے پی لیڈر ایٹالہ راجندر نے بی آر ایس کے منتخب امیدوار پی کوشک ریڈی کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔ گدوال میں کانگریس امیدوار ٹی سریتا نے بی آر ایس رکن اسمبلی بی کرشنا موہن ریڈی کے انتخاب کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلفنامہ میں کرشنا موہن ریڈی نے کئی کالمس پُر نہیں کئے حالانکہ انتخابی قواعد کے مطابق کسی بھی کالم کو خالی نہیں رکھا جاسکتا۔ کرشنا موہن ریڈی کے خلاف گذشتہ الیکشن کی ایک درخواست سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے۔ آصف آباد اسمبلی حلقہ میں کانگریس امیدوار اجمیرا شام نائیک نے بی آر ایس کی کے لکشمی کے خلاف حلفنامہ میں غلط معلومات فراہم کرنے کی شکایت کی ہے۔ ہائی کورٹ میں زیادہ تر انتخابی عذر داریاں جنوری میں داخل کی گئیں۔ ناگر کرنول اسمبلی حلقہ میں بی آر ایس کے ایم جناردھن ریڈی نے الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست دائر کی۔ پٹن چیرو اسمبلی حلقہ میں کانگریس کے کے سرینواس گوڑ نے رکن اسمبلی مہیپال ریڈی کے خلاف عذرداری دائر کی ہے۔ عادل آباد، کاماریڈی، شاد نگر، ملکاجگیری، کتہ گوڑم اور دیگر اسمبلی حلقہ جات کے بارے میں بھی انتخابی عذر داریاں داخل کی گئیں۔ زیادہ تر درخواستیں حلفنامہ میں غلط معلومات سے متعلق ہیں۔1

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *