News4

41 سال بعد راجیہ سبھا میں تلگودیشم کی نمائندگی نہیں ہوگی

واحد رکن کی میعاد ختم، 3 نشستوں پر وائی ایس آر کانگریس کی کامیابی یقینی

حیدرآباد۔/11 فروری، ( سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی کے قیام کے بعد 41 برسوں میں پہلی مرتبہ راجیہ سبھا میں پارٹی کی نمائندگی نہیں رہے گی۔ راجیہ سبھا کی 3 نشستوں کے چناؤ کی تکمیل کے بعد تلگودیشم کی نمائندگی ایوان بالا میں ختم ہوجائے گی۔ 1983 میں تلگودیشم پہلی مرتبہ برسراقتدار آئی تھی اور راجیہ سبھا میں پارٹی کی نمائندگی کا آغاز ہوا تھا۔ گذشتہ برسوں میں تلگودیشم کے بعض ارکان راجیہ سبھا بی جے پی میں شامل ہوگئے اور صرف واحد رکن کے رویندر باقی تھے جن کی میعاد 2 اپریل کو ختم ہوجائے گی۔ آندھرا پردیش اسمبلی میں عددی طاقت کے اعتبار سے تینوں نشستوں پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی کامیابی یقینی ہے۔ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے تینوں امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ تلگودیشم پارٹی عددی طاقت کے اعتبار سے امیدوار کھڑا کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ آندھرا پردیش اسمبلی کے 44 ارکان کی تائید سے راجیہ سبھا کا ایک رکن منتخب ہوسکتا ہے جبکہ تلگودیشم ارکان کی تعداد محض18 ہے۔ حال ہی میں 23 ارکان تلگودیشم کے تھے جن میں سے5 نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ حالیہ ایم ایل سی انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس کے 4 ناراض ارکان اسمبلی کو پارٹی سے معطل کیا گیا باوجود اس کے راجیہ سبھا کی ایک نشست کیلئے تلگودیشم کو مزید 27 ارکان کی تائید کی ضرورت پڑے گی۔ عام انتخابات سے عین قبل راجیہ سبھا کے چناؤ میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی جانب سے کراس ووٹنگ کے امکانات موہوم ہیں۔ واضح رہے کہ 2 اپریل کو جن ارکان کی میعاد ختم ہورہی ہے ان میں کے رویندر کمار (تلگودیشم )، سی ایم رمیش ( بی جے پی) اور وی پربھاکر ریڈی ( وائی ایس آر کانگریس پارٹی ) شامل ہیں۔1

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *