News4

8 کے بجائے 5 میڈیکل کالجس کا قیام ممکن

عہدیداروں کی فیلڈ انسپکشن کی رپورٹ حکومت کو پیش، تین مقامات پر ہاسپٹلس نہیں ہے
حیدرآباد۔ 7 فروری (سیاست نیوز) حکومت کو اعلیٰ عہدیداروں نے ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 8 میڈیکل کالجس کا قیام ممکن نہیں ہے بلکہ پانچ میڈیکل کالجس قائم کئے جا سکتے ہیں۔ سابق بی آر ایس حکومت نے آخری وقت میں 8 میڈیکل کالجس قائم کرنے کا جی او جاری کیا تھا۔ دو دن قبل اعلیٰ عہدیداروں کے ایک وفد نے فیلڈ انسپکشن کیا جس کے بعد حکومت کو یہ رپورٹ پیش کی ہیکہ پانچ مقامات گدوال، نارائن پیٹ، ملگو، ورنگل، نرسم پیٹ، میدک میں کالجس کا قیام ممکن ہے اور اس سلسلہ میں رائے پیش کی گئی ہے۔ ہاسپٹلس نہ ہونے والے مقامات مہیشورم، قطب اللہ پور، یادادری میں کالجس کے قیام کو مشکل قرار دیاگیا ہے۔ اگرچہ کانگریس کی نئی حکومت تمام 8 مقامات پر میڈیکل کالجس کے قیام کیلئے سنجیدہ ہے لیکن لکچرارس اورانفراسٹرکچر کی کمی اور ہاسپٹلس کی عدم دستیابی اہم وجہ ہے ۔ فیلڈ انسپکشن کی بنیاد پر حکومت 5 میڈیکل کالجس کے قیام پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور ان اضلاع کے کلکٹرس کو احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ لکچرارس کو کنٹراکٹ کی بنیاد پر بھرتی کی جانی چاہئے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے اسمبلی حلقہ کوڑنگل میں بھی میڈیکل کالج قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہر ایک میڈیکل کالجس میں 100 نشستوں کا اعلان کیا گیا تھا تاہم 50 نشستوں کیلئے درخواست دی گئی ہے۔ نیشنل میڈیکل کمیشن کے ضوابط میں کہا گیا ہیکہ 50 نشستوں پر مشتمل میڈیکل کالج کے قیام کیلئے کم از کم 220 بستروں والا کوئی ملحقہ ہاسپٹل لازمی ہے۔ بیشتر مقامات پر 220 بستروں پر مشتمل ہاسپٹلس اور تین مقامات پر سرکاری ہاسپٹلس نہیں ہیں۔ سابق حکومت میں اس وقت ڈی ایم ای کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے رمیش ریڈی نے ان کالجس کے قیام کو ناممکن قرار دیتے ہوئے تجویز پیش کی تھی لیکن بی آر ایس حکومت نے نظرانداز کرتے ہوئے عجلت پسندی میں جی او جاری کردیا تھا۔ 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *